EN हिंदी
کبھی تو آ کے ملو میرا حال تو پوچھو | شیح شیری
kabhi to aa ke milo mera haal to puchho

غزل

کبھی تو آ کے ملو میرا حال تو پوچھو

ارمان نجمی

;

کبھی تو آ کے ملو میرا حال تو پوچھو
کہ مجھ سے چھوٹ کے بھی آج کیسے زندہ ہو

جوانیوں کی یہ رت کس طرح گزرتی ہے
بس ایک بار تم اپنی نظر سے دیکھ تو لو

وہ آرزوؤں کا موسم تو کب کا بیت چکا
میں کب سے جھیل رہا ہوں دکھوں کے صحرا کو

مسرتوں کی رتیں تو تمہارے ساتھ گئیں
میں کیسے دور کروں روح کی اداسی کو

گزر نہ جاؤ سر راہ اجنبی کی طرح
تمہارا خواب ہوں میں تم تو مجھ کو پہچانو

جو جا چکے وہ مسافر نہ آئیں گے ارمان
بس اب تو دفن کرو نیم جاں امیدوں کو