کب تک شکیلؔ دل کو دعا کیجئے گا آپ
بہتر یہی ہے ان کو بھلا دیجئے گا آپ
پھر تشنۂ جمال بنا دیجئے گا آپ
رخ سے نقاب الٹ کر گرا دیجئے گا آپ
دل کے عوض تو غم ہی دیا آپ نے مگر
اب جاں بھی نذر کر دوں تو کیا کیجئے گا آپ
ہوتا جبین حسن پہ گمنامیوں کا داغ
وہ تو مری نظر کو دعا کیجئے گا آپ
احساس ترک شوق بجا ہے مگر شکیلؔ
مانگا جواب دل نے تو کیا دیجئے گا آپ
غزل
کب تک شکیلؔ دل کو دعا کیجئے گا آپ
شکیل بدایونی

