کب تک نباہیں ایسے غلط آدمی سے ہم
دنیا ہے مظہریؔ سے خفا مظہریؔ سے ہم
بھاگے ضرور عرصۂ تنگ خودی سے ہم
نکلے مگر نہ دائرۂ آگہی سے ہم
اس زندگی نے آپ سے رکھا ہے مجھ کو دور
کس طرح انتقام نہ لیں زندگی سے ہم
ہر جامہ صفات میں کیوں کر نہ جھول ہو
ہے یہ کہ ناپتے ہیں خدا کو خودی سے ہم
تلتے ہیں جس ترازو میں سیم و زر و گہر
کیا ظلم ہے دلوں کو بھی تولیں اسی سے ہم
سیرابیاں جمیلؔ کو اتنا نہ دے سکیں
جتنا کہ فیضیاب ہوئے تشنگی سے ہم
غزل
کب تک نباہیں ایسے غلط آدمی سے ہم
جمیلؔ مظہری