EN हिंदी
کب تک کڑکتی دھوپ میں آنکھیں جلائیں ہم | شیح شیری
kab tak kaDakti dhup mein aankhen jalaen hum

غزل

کب تک کڑکتی دھوپ میں آنکھیں جلائیں ہم

شہزاد احمد

;

کب تک کڑکتی دھوپ میں آنکھیں جلائیں ہم
سایہ دکھائی دے تو کہیں بیٹھ جائیں ہم

مٹتی نہیں کسی سے بھی قربت کی دوریاں
گر کھو گیا ہو تو تو تجھے ڈھونڈ لائیں ہم

بے نور ہو چلی ہیں تمنا کی بستیاں
کب تک چراغ یاد گزشتہ جلائیں ہم

تیرا وجود بیتی ہوئی زندگی کی یاد
تو آ چکے تو شہر میں دھومیں مچائیں ہم

سو طرح کی بہار ہے سو رنگ کی خزاں
اس دل کی وسعتوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

ہر سانحہ پکار کے کہتا ہے چپ رہو
کب تک دلوں کی بات زباں تک نہ لائیں ہم

اس شہر خامشی میں کوئی جاگتا بھی ہو
شہزادؔ کس کو صبح کا مژدہ سنائیں ہم