کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو
روز و شب کام رہا آہ و بکا سے مجھ کو
پاس خاطر سے نہ دشمن کے ستم کر مجھ پر
کھیلنا آتا ہے اے دوست قضا سے مجھ کو
ہائے عالم شب فرقت مری مایوسی کا
دیتی ہے موت کی امید دلاسے مجھ کو
تھا تری فتنہ خرامی سے عیاں دل کا مآل
بوئے خوں آتی ہے نقش کف پا سے مجھ کو
اے وفاؔ موسم وحشت بھی ہے کیا موسم گل
کیوں بچاتے ہیں گلستاں کی ہوا سے مجھ کو
غزل
کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو
میلہ رام وفاؔ

