EN हिंदी
کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو | شیح شیری
kab faraghat thi gham-e-subh-o-masa se mujhko

غزل

کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو

میلہ رام وفاؔ

;

کب فراغت تھی غم صبح و مسا سے مجھ کو
روز و شب کام رہا آہ و بکا سے مجھ کو

پاس خاطر سے نہ دشمن کے ستم کر مجھ پر
کھیلنا آتا ہے اے دوست قضا سے مجھ کو

ہائے عالم شب فرقت مری مایوسی کا
دیتی ہے موت کی امید دلاسے مجھ کو

تھا تری فتنہ خرامی سے عیاں دل کا مآل
بوئے خوں آتی ہے نقش کف پا سے مجھ کو

اے وفاؔ موسم وحشت بھی ہے کیا موسم گل
کیوں بچاتے ہیں گلستاں کی ہوا سے مجھ کو