کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا
ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے
لب ساحل سے جو ہلکا سا اشارہ ہوتا
تم ہی واقف نہ تھے آداب جفا سے ورنہ
ہم نے ہر ظلم کو ہنس ہنس کے سہارا ہوتا
غم تو خیر اپنا مقدر ہے سو اس کا کیا غم
زہر بھی ہم کو بصد شوق گوارا ہوتا
باغباں تیری عنایت کا بھرم کیوں کھلتا
ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا
تم پہ اسرار فنا راز بقا کھل جاتے
تم نے اک بار تو یزداں کو پکارا ہوتا
غزل
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
پروین فنا سید

