EN हिंदी
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا | شیح شیری
kash tufan mein safine ko utara hota

غزل

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

پروین فنا سید

;

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا

ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے
لب ساحل سے جو ہلکا سا اشارہ ہوتا

تم ہی واقف نہ تھے آداب جفا سے ورنہ
ہم نے ہر ظلم کو ہنس ہنس کے سہارا ہوتا

غم تو خیر اپنا مقدر ہے سو اس کا کیا غم
زہر بھی ہم کو بصد شوق گوارا ہوتا

باغباں تیری عنایت کا بھرم کیوں کھلتا
ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا

تم پہ اسرار فنا راز بقا کھل جاتے
تم نے اک بار تو یزداں کو پکارا ہوتا