EN हिंदी
کار جنوں کی حالتیں، کار خدا خیال کر | شیح شیری
kar-e-junun ki haalaten, kar-e-KHuda KHayal kar

غزل

کار جنوں کی حالتیں، کار خدا خیال کر

رانا عامر لیاقت

;

کار جنوں کی حالتیں، کار خدا خیال کر
عشق کا میں جواب ہوں، اور کوئی سوال کر

اتنا تو مان رکھ مرا، ہجر کا درد چکھ ذرا
مجھ کو ترا ملال ہے، تو بھی مرا ملال کر

وقت کے انہدام میں، دل کی کتاب دب گئی
جانے کہاں لکھا تھا تو، سوچتا ہوں نکال کر

خواب میں خواب گھولنا، مہنگا پڑا ہے دوستو
خواب تمام ہو گیا، آنکھیں مری نکال کر

لوح و قلم کے فرض پر، میرا یہ عشق قرض ہے
اس نے تو میری خاک بھی، رکھی نہیں سنبھال کر