کام ان آنکھوں کی ہوس ناکی کی سازش آ گئی
آخر ان پرہیزگار آنکھوں کو خواہش آ گئی
میں تو سمجھا تھا کہ ہم دونوں اکیلے ہیں مگر
اس کو چھوتے ہی ہمارے بیچ خواہش آ گئی
ہم بہت خوش تھے مگر اک دن ہمارے درمیاں
کچھ الگ سے اور خوش ہونے کی کوشش آ گئی
بادلوں کی طرح ٹکرائے تھے دو جسم اور پھر
بجلیاں کڑکیں اور اس کے بعد بارش آ گئی
اس سے ملنے کی کوئی صورت نکلتی ہی نہ تھی
اور تبھی دل کے علی گڑھ کی نمائش آ گئی
ہم تصوف کے ہوئے عالم تصوف چھوڑ کر
دل محبت سے ہوا خالی تو دانش آ گئی
فرحتؔ احساس اور اسما ہو گئے اہل نگاہ
دیکھتے ہی دیکھتے یوشی کو بینش آ گئی
غزل
کام ان آنکھوں کی ہوس ناکی کی سازش آ گئی
فرحت احساس

