EN हिंदी
کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا | شیح شیری
kabe hi ka ab qasd ye gumrah karega

غزل

کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا

میر سوز

;

کعبے ہی کا اب قصد یہ گمراہ کرے گا
جو تم سے بتاں ہوگا سو اللہ کرے گا

زلفوں سے پڑا طول میں اب عشق کا جھگڑا
خط آن کے یہ مجہلہ کوتاہ کرے گا

بوسے کی طلب سے تو رہے گا تبھی اے دل
جب گالیاں دو چار وہ تنخواہ کرے گا

آئینے کو ٹک بھر کے نظر دیکھ تو پیارے
وہ تجھ کو مرے حال سے آگاہ کرے گا

احوال دل زار تجھے ہووے گا معلوم
جب تو کسی مہ وش کی میاں چاہ کرے گا

واہی نہ سمجھ سوزؔ کے پیماں کو تو اے یار
جو تجھ سے کیا عہد سو نرباہ کرے گا