EN हिंदी
کعبۂ دل دماغ کا پھر سے غلام ہو گیا | شیح شیری
kaba-e-dil dimagh ka phir se ghulam ho gaya

غزل

کعبۂ دل دماغ کا پھر سے غلام ہو گیا

فرحت احساس

;

کعبۂ دل دماغ کا پھر سے غلام ہو گیا
پھر سے تمام شہر پر عشق حرام ہو گیا

میں نے تو اپنے سارے پھول اس کے چمن کو دے دیے
خوشبو اڑی تو اک ذرا میرا بھی نام ہو گیا

یار نے میری خاک خام رکھ لی خود اپنے چاک پر
میں تو سفر پہ چل پڑا میرا تو کام ہو گیا

جب بھی ہوئی اذان وصل ہم نے بچھائی جانماز
ہجر کا ایک پاسباں بڑھ کے امام ہو گیا

سارے حواس کے چراغ سو گئے انتظار میں
عشق تو برقرار ہے شوق تمام ہو گیا