جوں ہی بام و در جاگے
بستیوں میں گھر جاگے
انجم و قمر جاگے
آسمان پر جاگے
آپ ہی کے پہلو میں
رات رات بھر جاگے
ایسا زلزلہ آیا
نیند سے شجر جاگے
رت جگے سے ڈرتے ہیں
نازکیؔ مگر جاگے
غزل
جوں ہی بام و در جاگے
فاروق نازکی
غزل
فاروق نازکی
جوں ہی بام و در جاگے
بستیوں میں گھر جاگے
انجم و قمر جاگے
آسمان پر جاگے
آپ ہی کے پہلو میں
رات رات بھر جاگے
ایسا زلزلہ آیا
نیند سے شجر جاگے
رت جگے سے ڈرتے ہیں
نازکیؔ مگر جاگے