EN हिंदी
جو یوں آپ بیرون در جائیں گے | شیح شیری
jo yun aap bairun-e-dar jaenge

غزل

جو یوں آپ بیرون در جائیں گے

غلام یحییٰ حضورعظیم آبادی

;

جو یوں آپ بیرون در جائیں گے
خدا جانے کس کس کے گھر جائیں گے

شب ہجر میں ایک دن دیکھنا
اگر زندگی ہے تو مر جائیں گے

عبث گھر سے اپنے نکالے ہے تو
بھلا ہم تجھے چھوڑ کر جائیں گے

مسافر ہیں لیکن نہیں جانتے
کہاں سے ہم آئے کدھر جائیں گے

تمنا میں بوسہ کی کہتا ہے جی
بدن سے نکل بھی اگر جائیں گے

تو ہے ایک دم اور ہزاروں امید
لبوں پہ کوئی دم ٹھہر جائیں گے

بہ حرمت نبھی اب تلک جس طرح
حضور اتنے دن بھی گزر جائیں گے