جو یہاں محو ماسوا نہ ہوا
دور اس سے کبھی خدا نہ ہوا
عہد میں تیرے ظلم کیا نہ ہوا
خیر گزری کہ تو خدا نہ ہوا
عشق کی روح کو دیا صدمہ
زندگی میں اگر فنا ہوا
یوں ہی گھٹ گھٹ کے مٹ گیا آخر
عقدۂ دل کسی سے وا نہ ہوا
عشق ہے اک طلسم راز بقا
مٹ گیا دل مگر فنا نہ ہوا
کر دیا دل نے زندۂ جاوید
قید ہستی سے میں رہا نہ ہوا
نہ ملی داد ضبط عشق عزیزؔ
وہ کبھی صبر آزما نہ ہوا
غزل
جو یہاں محو ماسوا نہ ہوا
عزیز لکھنوی

