جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے
جو عضو ظاہر خدا بناتا تو دیدۂ اشک بار ہوتے
جو گرد کر کے خدا اڑاتا تو اڑتے گرد ملال ہو کر
جو سنگ کر کے خدا جماتا تو جم کے لوح مزار ہوتے
خدا جو شانہ ہمیں بناتا تو ہم خلش ہوتے اپنے دل کی
خدا جو آئینہ ہم کو کرتا تو اپنے حیران کار ہوتے
جو روز ہم کو خدا بناتا تو بنتے روز فراق جاناں
جو رات ہم کو خدا بناتا تو ہم شب انتظار ہوتے
غرض کہ ایسا مصیبتوں کا ہمارے دل کو مزا پڑا ہے
کہ قدرؔ ہم کو خدا بناتا تو ہو کے بے قدر خوار ہوتے
غزل
جو عضو باطن خدا بناتا تو ہم دل بے قرار ہوتے
قدر بلگرامی