جو سمجھنا چاہیے تھا وہ کہاں سمجھا تھا میں
اس جہان رنگ و بو کو خاکداں سمجھا تھا میں
وقت کی ٹھوکر نے ظاہر کر دئے جوہر مرے
زندگی کو اپنی سنگ رائیگاں سمجھا تھا میں
اس نے بھر دی جان و دل میں اک نئی تابندگی
جس نگاہ گرم کو برق تپاں سمجھا تھا میں
اپنی ہی کوتاہ دستی کا نکل آیا قصور
کل جسے بے مہرئی پیر مغاں سمجھا تھا میں
غزل
جو سمجھنا چاہیے تھا وہ کہاں سمجھا تھا میں
بختیار ضیا

