EN हिंदी
جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے | شیح شیری
jo qurbaton ke nashe the wo ab utarne lage

غزل

جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے

احمد فراز

;

جو قربتوں کے نشے تھے وہ اب اترنے لگے
ہوا چلی ہے تو جھونکے اداس کرنے لگے

گئی رتوں کا تعلق بھی جان لیوا تھا
بہت سے پھول نئے موسموں میں مرنے لگے

وہ مدتوں کی جدائی کے بعد ہم سے ملا
تو اس طرح سے کہ اب ہم گریز کرنے لگے

غزل میں جیسے ترے خد و خال بول اٹھیں
کہ جس طرح تری تصویر بات کرنے لگے

بہت دنوں سے وہ گمبھیر خامشی ہے فرازؔ
کہ لوگ اپنے خیالوں سے آپ ڈرنے لگے