EN हिंदी
جو میرا لے گیا دل کون وہ انسان ہے کیا ہے | شیح شیری
jo mera le gaya dil kaun wo insan hai kya hai

غزل

جو میرا لے گیا دل کون وہ انسان ہے کیا ہے

قاسم علی خان آفریدی

;

جو میرا لے گیا دل کون وہ انسان ہے کیا ہے
پری ہے یا ملک یا حور یا غلمان ہے کیا ہے

نظر زلفوں پہ اس کی جا پڑی جس کی لگا کہنے
یہ دونوں سانپ ہیں یا کاکل پیچان ہے کیا ہے

گیا ہوں بھول سب کچھ دختر رز جیسے ہاتھ آئی
جگر ہے جان ہے ایمان ہے ایقان ہے کیا ہے

ہمارے یار کے کچھ درمیاں جو بات بول اٹھے
رقیب رو سیہ غماز یا شیطان ہے کیا ہے

زمیں پر جھانکتے ہیں روز و شب افلاک سے کس کو
مہ و خور یا کسی کا دیدۂ حیران ہے کیا ہے

مرے رونے کو دیکھا ہجر میں جس نے سو یوں بولا
جھڑی برسات کی یا موجۂ طوفان ہے کیا ہے

بہ جوش عشق لٹکے ہے نہیں مجھ کو تمیز اتنی
بہ مژگاں لخت دل یا در ہے یا مرجان ہے کیا ہے

مری چھاتی پہ رکھ کر دست کی تشخیص حکما نے
یہ سینہ کان گندھک یا کہ آتش دان ہے کیا ہے

جلے سینہ سے دود اٹھا دماغ آشفتہ کر ڈالا
مکرر دل بھنا یا پھر جگر بریان ہے کیا ہے

نہ بھول اے خضر مر جانا ہے آخر ٹک جیا تو کیا
اگر مادام ہے کیا ہے وگر یک آن ہے کیا ہے

فنا فی الشیخ ہو، تفریق افریدیؔ نہ کر ہرگز
نبی ہے یا علی یا حافظ قرآن ہے کیا ہے