EN हिंदी
جو انکار سر کے جھکانے کو ہے | شیح شیری
jo inkar sar ke jhukane ko hai

غزل

جو انکار سر کے جھکانے کو ہے

اطہر شکیل

;

جو انکار سر کے جھکانے کو ہے
گلا ہم سے سارے زمانے کو ہے

میسر ہے ہر دل عزیزی اسے
مروت بھی اس کی دکھانے کو ہے

یہ قصہ ہے دل کا نہ ہوگا تمام
ابھی اور کتنا سنانے کو ہے

نیا اک المیہ نئی ابتلا
خدا بھی ہمیں آزمانے کو ہے

عجب ہے یہ ویران صحرا یہاں
نہ تنکا کوئی آشیانے کو ہے

حرم سے بھی لوٹے تو اطہر شکیلؔ
سفر ان کا پھر بادہ خانے کو ہے