جو بیت گئی اس کی خبر ہے کہ نہیں ہے
دیکھو مرے تن پر مرا سر ہے کہ نہیں ہے
اس شہر ندامت سے جو آئے ہیں پلٹ کر
در پیش نیا ان کو سفر ہے کہ نہیں ہے
یاروں کو بہت پیار ہے زندان وفا سے
لیکن کسی دیوار میں در ہے کہ نہیں ہے
ملتی ہو ضیا جس کو چراغوں کی لوؤں سے
اس شہر میں ایسا کوئی گھر ہے کہ نہیں ہے
چہرے پہ سجا لایا ہوں میں دل کی صدائیں
دنیا میں کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں ہے
سورج کی گزر گاہ بنے شاخ نہ جس کی
ایسا کوئی رستے میں شجر ہے کہ نہیں ہے
برسات میں کوئل سی جہاں کوک رہی تھی
آباد وہ خوابوں کا نگر ہے کہ نہیں ہے
ٹوٹی ہوئی مسجد میں کھڑا دیکھ رہا ہوں
محفوظ شوالے کا گجر ہے کہ نہیں ہے
کیوں تیرا گریباں ہے قتیلؔ اب بھی سلامت
کچھ تجھ پہ نئی رت کا اثر ہے کہ نہیں ہے
غزل
جو بیت گئی اس کی خبر ہے کہ نہیں ہے
قتیل شفائی

