EN हिंदी
جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے | شیح شیری
jo bhi jine ke silsile kiye the

غزل

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے

جواد شیخ

;

جو بھی جینے کے سلسلے کیے تھے
ہم نے بس آپ کے لیے کیے تھے

تب کہیں جا کے اپنی مرضی کی
پہلے اپنوں سے مشورے کیے تھے

کبھی اس کی نگہ میسر تھی
کیسے کیسے مشاہدے کیے تھے

عقل کچھ اور کر کے بیٹھ رہی
عشق نے اور فیصلے کیے تھے

بات ہم نے سنی ہوئی سنی تھی
کام اس نے کیے ہوئے کیے تھے

اسے بھی ایک خط لکھا گیا تھا
اپنے آگے بھی آئنے کیے تھے

یہاں کچھ بھی نہیں ہے میرے لیے
تو نے کیا کیا مبالغے کیے تھے

اول آنے کا شوق تھا لیکن
کام سارے ہی دوسرے کیے تھے

بڑی مشکل تھی وہ گھڑی جوادؔ
ہم نے کب ایسے فیصلے کیے تھے