EN हिंदी
جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے | شیح شیری
jo bhi ghuncha tere honTon pe khila karta hai

غزل

جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے

قتیل شفائی

;

جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
وہ تری تنگئ داماں کا گلا کرتا ہے

دیر سے آج مرا سر ہے ترے زانو پر
یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے

میں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفانوں کو
تو مرے دل کے دھڑکنے کا گلا کرتا ہے

رات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاں
جیسے جھومر ترے ماتھے پہ ہلا کرتا ہے

جب مری سیج پہ ہوتا ہے بہاروں کا نزول
صرف اک پھول کواڑوں میں کھلا کرتا ہے

کون کافر تجھے الزام تغافل دے گا
جو بھی کرتا ہے محبت سے گلا کرتا ہے

لوگ کہتے ہیں جسے نیل کنول وہ تو قتیلؔ
شب کو ان جھیل سی آنکھوں میں کھلا کرتا ہے