جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
وہ تری تنگئ داماں کا گلا کرتا ہے
دیر سے آج مرا سر ہے ترے زانو پر
یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے
میں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفانوں کو
تو مرے دل کے دھڑکنے کا گلہ کرتا ہے
رات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاں
جیسے جھومر ترے ماتھے پہ ہلا کرتا ہے
جب مری سیج پہ ہوتا ہے بہاروں کا نزول
صرف اک پھول کواڑوں میں کھلا کرتا ہے
کون کافر تجھے الزام تغافل دے گا
جو بھی کرتا ہے محبت سے گلا کرتا ہے
لوگ کہتے ہیں جسے نیل کنول وہ تو قتیلؔ
شب کو ان جھیل سی آنکھوں میں کھلا کرتا ہے
غزل
جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
قتیل شفائی

