EN हिंदी
جو اشک بچ گئے انہیں لاتا ہوں کام میں | شیح شیری
jo ashk bach gae unhen lata hun kaam mein

غزل

جو اشک بچ گئے انہیں لاتا ہوں کام میں

کاشف حسین غائر

;

جو اشک بچ گئے انہیں لاتا ہوں کام میں
تھوڑی سی دھوپ روز ملاتا ہوں شام میں

بستی میں اک چراغ کے جلنے سے رات بھر
کیا کیا خلل پڑا ہے ستاروں کے کام میں

اک شخص اپنی ذات کی تعمیر چھوڑ کر
مصروف آج کل ہے مرے انہدام میں

مجھ کو بھی اس گلی میں محبت کسی سے تھی
اب نام کیا بتاؤں رکھا کیا ہے نام میں

کاشفؔ حسین دشت میں جتنے بھی دن رہا
بیٹھا نہیں غبار مرے احترام میں