EN हिंदी
جسم کی قید سے سب رنگ تمہارے نکل آئے | شیح شیری
jism ki qaid se sab rang tumhaare nikal aae

غزل

جسم کی قید سے سب رنگ تمہارے نکل آئے

فرحت احساس

;

جسم کی قید سے سب رنگ تمہارے نکل آئے
میری دستک سے تو تم اور بھی پیارے نکل آئے

اس کے پانی نے دیا حکم تو ہم ڈوب گئے
اس کی مٹی نے پکارا تو کنارے نکل آئے

عشق پہنچا جو مرے جسم کے دروازے پر
خیر مقدم کے لیے خون کے دھارے نکل آئے

اس کی آنکھوں نے یقیں کچھ نہ دلایا پھر بھی
شعر کہنے کے لیے کچھ تو اشارے نکل آئے

شہر کی بھیڑ میں گم ہو گئے سارے معشوق
خیر سے عشق میاں تم تو ہمارے نکل آئے

فرحتؔ احساس تو بس ڈوب گئے تھے لیکن
بیچ منجدھار میں دو چار کنارے نکل آئے