EN हिंदी
جسم جب محو سخن ہوں شب خاموشی سے | شیح شیری
jism jab mahw-e-suKHan hon shab-e-KHamoshi se

غزل

جسم جب محو سخن ہوں شب خاموشی سے

فرحت احساس

;

جسم جب محو سخن ہوں شب خاموشی سے
لفظ تو دیتے ہیں گرمیٔ ہم آغوشی سے

سخت احکام محبت ہیں کہ دوران وصال
لفظ آگے نہ بڑھیں سرحد سرگوشی سے

نشہ بڑھتا ہے ہمیں دیر میں مے نوشی کے بعد
اس کی گنجان خموشی کی نوا نوشی سے

دیکھنے ہوں کبھی معنی بھی تو پھر خاک وصال
ایک دو لفظ جلا دیتی ہے خاموشی سے

جھاڑا پوچھا تھا ابھی صبح کو ہی خانۂ یاد
شام تک اٹ گیا پھر گرد فراموشی سے

شہر کا شور پہنچتا ہی نہیں اب مجھ تک
عافیت میں ہوں محبت کی گراں گوشی سے

آبلے پاؤں کے پاپوش ہوئے آخر کار
عمر بھر جان بچائی تھی جو پا پوشی سے

لوگ بنوانے لگے ویسے ہی زخموں کے لباس
طرز نو چل گئی احساسؔ کی خوش پوشی سے

آتش فرحتؔ و اسماؔ نے جلائے دو چراغ
ایک بینش سے جلا ایک جلا یوشی سے