جسے ملیں وہی تنہا دکھائی دیتا ہے
حصار ذات میں سمٹا دکھائی دیتا ہے
کسی کے سر پہ کوئی سائباں نہیں ہر شخص
خود اپنی چھاؤں میں بیٹھا دکھائی دیتا ہے
وہ دور تیشہ گری ہے کہ آدمی کا وجود
ہر ایک سمت سے ٹوٹا دکھائی دیتا ہے
سزائے دار ابھی تک ہے اہل حق کے لیے
ابھی صلیب پہ عیسیٰ دکھائی دیتا ہے
دھواں دھواں ہے فضا آتش تعصب سے
نگر نگر مجھے جلتا دکھائی دیتا ہے
یہ کیفیت ہے جنوں کی یا دل کی ویرانی
کہ اپنا گھر مجھے صحرا دکھائی دیتا ہے
بھٹک رہی ہے کسی کربلا میں سوزؔ کی روح
کچھ اس طرح سے وہ پیاسا دکھائی دیتا ہے

غزل
جسے ملیں وہی تنہا دکھائی دیتا ہے
ہیرا نند سوزؔ