جس طرح پیدا ہوئے اس سے جدا پیدا کرو
خود کو اپنی خاک سے بالکل نیا پیدا کرو
شہر کے ان آئنہ خانوں میں پھرنا ہے فضول
چاہیے چہرہ تو اپنا آئنہ پیدا کرو
یار سجدوں کا بھی کچھ معیار ہونا چاہیے
پہلے جا کر ڈھنگ کا کوئی خدا پیدا کرو
اس ہجوم شہر میں اس تک پہنچنا ہے محال
اب تو اندر ہی سے کوئی راستہ پیدا کرو
تاکہ اک گھر میں رہے تو دوسرا محفل میں ہو
فرحتؔ احساس اپنے جیسا دوسرا پیدا کرو
غزل
جس طرح پیدا ہوئے اس سے جدا پیدا کرو
فرحت احساس

