EN हिंदी
جس کی گرہ میں مال نہیں ہے | شیح شیری
jis ki girah mein mal nahin hai

غزل

جس کی گرہ میں مال نہیں ہے

رشید رامپوری

;

جس کی گرہ میں مال نہیں ہے
غم پرسان حال نہیں ہے

سبزہ ہو یا دل تیرے قدم سے
کون ہے جو پامال نہیں ہے

ان کے کرم کا رستہ دیکھیں
اتنا استقلال نہیں ہے

آج غریبوں کا دنیا میں
کوئی شریک حال نہیں ہے

اس کا بھی کوئی رنگ سخن ہے
جس کی کوئی ٹکسال نہیں ہے

خوش ہیں رشیدؔ اتنا دنیا میں
کیا خوف اعمال نہیں ہے