EN हिंदी
جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی | شیح شیری
jigar ko KHun kiye dil ko be-qarar abhi

غزل

جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی

افروز عالم

;

جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی
بھٹک رہے ہیں ترے عشق میں ہزار ابھی

اسی لئے تو یہ دنیا دھلی دھلی سی لگے
ترے فراق میں روئے ہیں زار زار ابھی

ادائے خار سے گلشن کی بڑھ گئی زینت
اگرچہ پھولوں کے دامن ہیں تار تار ابھی

سیاہ بخت فضاؤں میں دل ہوا بد ظن
تری زبان کے تیور ہیں آب دار ابھی

ابھی نہ نکلے گا حاصل ہماری باتوں کا
تمہارے سر پہ ہے سایہ کوئی سوار ابھی

یہ دیکھتے ہیں کہ کل رنگ صبح کیا ہوگا
کہ آفتاب کا عالمؔ ہے انتظار ابھی