EN हिंदी
جھریوں کی قطار دیکھو تو | شیح شیری
jhurriyon ki qatar dekho to

غزل

جھریوں کی قطار دیکھو تو

ڈاکٹر اعظم

;

جھریوں کی قطار دیکھو تو
عمر سے اپنی ہار دیکھو تو

ہوک بے اختیار اٹھتی ہے
اپنے جب اختیار دیکھو تو

جھیل کہتے ہو تم جن آنکھوں کو
ان میں ہیں آبشار دیکھو تو

جانے کیا کیا نظر وہ آتا ہے
جب اسے بار بار دیکھو تو

غیر ممکن ہے اتحاد میاں
قوم میں انتشار دیکھو تو

وصل سے آپ ہی گریزاں ہوں
لذت انتظار دیکھو تو

دو ہی مصرعوں میں ہے مکمل نظم
وسعت اختیار دیکھو تو