جھگڑے خدا سے ہو گئے عہد شباب میں
تب سے گرے پڑے ہیں جہان خراب میں
کب کا وہ جا چکا تھا کھلی آنکھ جب مری
میں اس کو دیکھتا ہی رہا جیسے خواب میں
رنگینئ لباس کا جم غفیر ہے
شاید کہ میں نہ آؤں ترے انتخاب میں
مجھ پر زکوٰۃ حسن سخن کی ہوئی ہے فرض
شامل ہوا ہوں شعر کے اہل نصاب میں
اٹھو کہ آئینہ بھی کہیں کا کہیں گیا
رہ جاؤ گے یہیں جو رہوگے حجاب میں
شاید قلم دوات کی فرصت نہ ہو اسے
میرے ہی خط کو بھیج دیا ہے جواب میں
چھپ چھپ کے دیکھتا تھا تغافل کی آڑ میں
اس نے برت لیا ہے مجھے اجتناب میں
وہ شمع انتظار کی لو کر گیا مجھے
میں روشنئ طبع سے ہوں پیچ و تاب میں
آئیں ہوائیں دور سے باغ بہشت کی
خوشبو بھی آئی دیر سے کار ثواب میں
آئینۂ نگاہ میں تعلیم اور تھی
برعکس ہو گیا جو لکھا تھا کتاب میں
میں رہنے والا شام و سحر کے پرے کا ہوں
ڈالا گیا ہوں شام و سحر کے حساب میں
اس بے حسی کے بیچ میں احساسؔ کی غزل
دیکھو تو یہ سکوت سخن کے جواب میں
غزل
جھگڑے خدا سے ہو گئے عہد شباب میں
فرحت احساس

