جذبات کی رو میں بہہ گیا ہوں
کہنا جو نہ تھا وہ کہہ گیا ہوں
ہر لمحۂ سر خوشی میں اکثر
دو اشک بہا کے رہ گیا ہوں
تھا جن پہ گماں ترے ستم کا
کچھ ایسے کرم بھی سہہ گیا ہوں
شاید وہ اسے جنوں سمجھ لیں
اک بات پتے کی کہہ گیا ہوں
اب کیا غم ساحل و تلاطم
اک موج کے ساتھ بہہ گیا ہوں
غزل
جذبات کی رو میں بہہ گیا ہوں
شکیل بدایونی

