EN हिंदी
جوانی مری رنگ لانے لگی ہے | شیح شیری
jawani meri rang lane lagi hai

غزل

جوانی مری رنگ لانے لگی ہے

سدرشن کمار وگل

;

جوانی مری رنگ لانے لگی ہے
کلی دل کی اب مسکرانے لگی ہے

کسی کی ادا ہم کو بھانے لگی ہے
محبت یہ جادو جگانے لگی ہے

مرے دل کا خرمن جلانے لگی ہے
نظر ان کی بجلی گرانے لگی ہے

بشر کی خرد گل کھلانے لگی ہے
نئے اب خدا یہ بنانے لگی ہے

وہ گزرے ہیں صحن چمن سے خراماں
فضا خود بخود گنگنانے لگی ہے

جنوں نے وہ طے کر لی منزل کبھی کی
خرد اب جہاں آنے جانے لگی ہے

محبت کے کام آ گئی آج رفعتؔ
ہماری بھی مٹی ٹھکانے لگی ہے