EN हिंदी
جہاں میں رہ کے بھی ہم کب جہاں میں رہتے ہیں | شیح شیری
jahan mein rah ke bhi hum kab jahan mein rahte hain

غزل

جہاں میں رہ کے بھی ہم کب جہاں میں رہتے ہیں

سجاد باقر رضوی

;

جہاں میں رہ کے بھی ہم کب جہاں میں رہتے ہیں
مکاں کو چھوڑ چکے ہیں زماں میں رہتے ہیں

ترے خیال میں اپنا گزر نہیں ہوتا
جو دل سے گر گئے وہم و گماں میں رہتے ہیں

چھٹے غبار تو نام و نشاں ہمارا ملے
کہ ہم تو گرد پس کارواں میں رہتے ہیں

جو خار ہیں وہ کھٹکتے ہیں چشم اعدا میں
جو پھول ہیں وہ دل دوستاں میں رہتے ہیں

شگفت جاں کے لئے کھینچ رنج محرومی
بہار کے سبھی موسم خزاں میں رہتے ہیں

نہیں جو وہ تو در و بام کی فضا سے ملو
مکیں کے رنگ طبیعت مکاں میں رہتے ہیں

ہم اپنی آگ کو پانی میں ڈھالنے کے لئے
طلسم کاریٔ آہ و فغاں میں رہتے ہیں

عروج عشق یہ دیکھا کہ تیرے دیوانے
زمیں پہ چلتے ہیں اور آسماں میں رہتے ہیں

کتاب حال میں باقرؔ کو ڈھونڈتے ہو عبث
سنا ہے دل کی کسی داستاں میں رہتے ہیں