EN हिंदी
جب نظر اس نے ملائی ہوگی | شیح شیری
jab nazar usne milai hogi

غزل

جب نظر اس نے ملائی ہوگی

رشید رامپوری

;

جب نظر اس نے ملائی ہوگی
لب پہ عالم کے دہائی ہوگی

ان کی بے وجہ برائی ہوگی
منہ سے نکلی تو پرائی ہوگی

وہ مجھے دیکھنے آتے ہم دم
تو نے کچھ بات بنائی ہوگی

مانگتا ہوں جو دعائے وحشت
حسرت آبلہ پائی ہوگی

عشق میں اور دل زار کی قدر
ضبط نے بات بڑھائی ہوگی

آئے دن کی تو یہ رنجش ٹھہری
کس طرح ان سے صفائی ہوگی

دل رشیدؔ ان سے لگایا بھی تو کیا
نہ برائی نہ بھلائی ہوگی