EN हिंदी
جب کہ بے پردہ تو ہوا ہوگا | شیح شیری
jab ki be-parda tu hua hoga

غزل

جب کہ بے پردہ تو ہوا ہوگا

مصحفی غلام ہمدانی

;

جب کہ بے پردہ تو ہوا ہوگا
ماہ پردے سے تک رہا ہوگا

کچھ ہے سرخی سی آج پلکوں پر
قطرۂ خوں کوئی بہا ہوگا

میرے نامے سے خوں ٹپکتا تھا
دیکھ کر اس نے کیا کہا ہوگا

گھورتا ہے مجھے وہ دل کی مرے
میری نظروں سے پا گیا ہوگا

یہی رہتا ہے اب تو دھیان مجھے
واں سے قاصد مرا چلا ہوگا

جس گھڑی تجھ کو کنج خلوت میں
پا کے تنہا وہ آ گیا ہوگا

مصحفیؔ اس گھڑی میں حیراں ہوں
تجھ سے کیوں کر رہا گیا ہوگا