EN हिंदी
جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا (ردیف .. و) | شیح شیری
jab banTana hi azab Thahra

غزل

جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا (ردیف .. و)

پروین فنا سید

;

جب بانٹنا ہی عذاب ٹھہرا
پھر کیسا حساب مانگتے ہو

سب ہونٹوں پہ مہر لگ چکی ہے
اب کس سے جواب مانگتے ہو

کلیوں کو مسل کے اپنے ہاتھوں
پھولوں سے شباب مانگتے ہو

ہر لفظ صلیب پر چڑھا کر
تم کیسی کتاب مانگتے ہو

سب روشنیوں کو چھین کر بھی
دیوانوں سے خواب مانگتے ہو

فردوس بریں میں مل سکے گی
اس یگ میں شراب مانگتے ہو