EN हिंदी
جانے کس کس کی توجہ کا تماشا دیکھا | شیح شیری
jaane kis kis ki tawajjoh ka tamasha dekha

غزل

جانے کس کس کی توجہ کا تماشا دیکھا

شہرت بخاری

;

جانے کس کس کی توجہ کا تماشا دیکھا
توڑ کر آئنہ جب اپنا ہی چہرا دیکھا

آ لگے گور کنارے تو ملا مژدۂ وصل
رات ڈوبی تو ابھرتا ہوا تارا دیکھا

ایک آنسو میں ہوئے غرق دو عالم کے ستم
یہ سمندر تو ترے غم سے بھی گہرا دیکھا

یاد آتا نہیں کچھ بھی کہ یہاں دنیا میں
کون سی چیز نہیں دیکھی مگر کیا دیکھا

عشق کے داغ ہوئے محو اس آشوب میں سب
ٹمٹماتا سا چراغ رخ زیبا دیکھا

اس غلط بینی کا کوئی تو نتیجہ ہوتا
عمر بھر بحر بلا خیز کو صحرا دیکھا

کوئی اس خواب کی تعبیر بدل دے یارب
گھر میں بہتا ہوا اک خون کا دریا دیکھا

کھو گئے بھیڑ میں دنیا کی پر اب تک شہرتؔ
سنسنا اٹھا ہے جی جب کوئی ان سا دیکھا