EN हिंदी
جاں یوں لباس جسم کو نکلی اتار کر | شیح شیری
jaan yun libas-e-jism ko nikli utar kar

غزل

جاں یوں لباس جسم کو نکلی اتار کر

قیصر خالد

;

جاں یوں لباس جسم کو نکلی اتار کر
جیسے کوئی سرائے میں اک شب گزار کر

حالات نے لباس تو میلا کیا مگر
کردار پھر بھی رکھا ہے ہم نے سنوار کر

معیار آج کل تو بڑائی کا ہے یہی
اپنی ہر ایک بات کو تو اشتہار کر

گر ہو سکے تو دے انہیں امید کی کرن
بیٹھے ہوں زندگانی سے اپنی جو ہار کر

دنیا بہت بڑی ہے کہیں کر تلاش رزق
حالات کچھ ہوں ان پہ نہ اب انحصار کر

یہ بھی تو ہے انا کو کچلنے کا ایک طور
نفرت رہی ہے جس سے اسی کو تو پیار کر

جو زخم دشمنوں سے ملے ان کو تو نہ دیکھ
جو دوستوں نے بخشے ہیں ان کا شمار کر

امید روز ایک نئی لے کے جاگیے
ناکامیوں کے بوجھ کو سر سے اتار کر

ہر کوئی آنسوؤں کی زباں جانتا نہیں
آنکھیں کسی کے سامنے مت آبشار کر

اپنے نہیں تو اور کسی کے لیے بھی جی
خالدؔ روش اک ایسی بھی اب اختیار کر