EN हिंदी
جاں بھی پرسوز ہو انجام تمنا کیا ہے | شیح شیری
jaan bhi pur-soz ho anjam-e-tamanna kya hai

غزل

جاں بھی پرسوز ہو انجام تمنا کیا ہے

مسعود حسین خاں

;

جاں بھی پرسوز ہو انجام تمنا کیا ہے
کوئی بتلائے کہ جینے کا بہانا کیا ہے

میری آنکھوں میں نمی بھی ہو تو واللہ کیا ہے
کوئی بھی جس کو نہ دیکھے وہ تماشا کیا ہے

وہ نہ چاہیں تو مزہ چاہ میں پھر خاک ملے
ہم اگر چاہیں بھی بالفرض تو ہوتا کیا ہے

دل سلگتا ہے سلگتا رہے جلتا ہے جلے
ایسی باتوں سے بھلا عشق میں بنتا کیا ہے

ہم سے منسوب ہیں امید و تمنا و خیال
کوئی دیکھے تو ذرا آپ کا نقشا کیا ہے

عقل سمجھائے گی بہلائے گی پھسلائے گی
دل کی چھلنی سے مگر دیکھیے چھنتا کیا ہے

بے خبر کتنے تھے مسعودؔ رموز غم سے
میں جو رویا تو کہا درد سے روتا کیا ہے