EN हिंदी
اتنی خراب صورت حالات بھی نہیں | شیح شیری
itni KHarab surat-e-haalat bhi nahin

غزل

اتنی خراب صورت حالات بھی نہیں

فاروق نازکی

;

اتنی خراب صورت حالات بھی نہیں
جو کہہ نہ پاؤں ایسی کوئی بات بھی نہیں

سورج کا گاؤں جس کی جٹاؤں میں تھی اسیر
اے شہر بے چراغ یہ وہ رات بھی نہیں

پھر آج اٹھ رہا ہے دھواں دل کے آس پاس
تجدید آرزوئے ملاقات بھی نہیں

ڈرتا ہوں اپنے سائے سے میں خود گزیدہ ہوں
سینے میں کوئی شورش ظلمات بھی نہیں

فاروقؔ نازکی نے کھلائے لہو کے پھول
دل پر اگرچہ اس کی عنایات بھی نہیں