اتنا سکون تو غم پنہاں میں آ گیا
آغوش دل سے دامن مژگاں میں آ گیا
دل اشک بن کے دیدۂ گریاں میں آ گیا
خورشید جیسے روزن زنداں میں آ گیا
مجھ کو تو رنگ و بو میں الجھنے سے تھا گریز
میں نے یہ کیا کیا کہ گلستاں میں آ گیا
عکس جمال یار بتدریج ذوق دید
آنکھوں سے دل میں دل سے رگ جاں میں آ گیا
پھر میرے اپنے آپ میں رہنے کا کیا سوال
جب وہ مرے حریم دل و جاں میں آ گیا
مرہم کا نام لے کے نہ زخموں کو چھیڑئیے
مرہم بھلا کہاں سے نمکداں میں آ گیا
وحشت اثر فضا ہے نہ دیوار و در یہاں
بیکار ہی میں گھر سے بیاباں میں آ گیا
اخگرؔ جنون عشق نوردی کدھر گیا
مجنوں تو میرے خانۂ ویراں میں آ گیا
غزل
اتنا سکون تو غم پنہاں میں آ گیا
حنیف اخگر

