EN हिंदी
اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھ | شیح شیری
itna hai zindagi ka talluq KHushi ke sath

غزل

اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھ

بختیار ضیا

;

اتنا ہے زندگی کا تعلق خوشی کے ساتھ
ایک اجنبی ہو جیسے کسی اجنبی کے ساتھ

سورج افق تک آتے ہی گہنا گیا یہاں
کچھ تیرگی بھی بڑھتی رہی روشنی کے ساتھ

حکام کا سلوک وہی ہے عوام سے
ابن زیاد کا تھا جو ابن علی کے ساتھ

اللہ رے تغافل چارہ گران وقت
سنتے ہیں دل کی بات مگر بے دلی کے ساتھ

طبقوں میں رنگ و نسل کے الجھا کے رکھ دیا
یہ ظلم آدمی نے کیا آدمی کے ساتھ