EN हिंदी
عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے | شیح شیری
ishq se main Dar chuka tha Dar chuka to tum mile

غزل

عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے

اورنگ زیب

;

عشق سے میں ڈر چکا تھا ڈر چکا تو تم ملے
دل تو کب کا مر چکا تھا مر چکا تو تم ملے

جب میں تنہا گھٹ رہا تھا تب کہاں تھی زندگی
دل بھی غم سے بھر چکا تھا بھر چکا تو تم ملے

بے قراری پھر محبت پھر سے دھوکہ اب نہیں
فیصلہ میں کر چکا تھا کر چکا تو تم ملے

میں تو سمجھا سب سے بڑھ کر مطلبی تھا میں یہاں
خود پہ تہمت دھر چکا تھا دھر چکا تو تم ملے