EN हिंदी
عشق نے تجھ خال کے مجھ کوں خیالی کیا | شیح شیری
ishq ne tujh Khaal ke mujh kun KHayali kiya

غزل

عشق نے تجھ خال کے مجھ کوں خیالی کیا

داؤد اورنگ آبادی

;

عشق نے تجھ خال کے مجھ کوں خیالی کیا
دل کوں خیالات سوں غیر کے خالی کیا

فکر پہنچتی نہیں مصرعۂ ثانی کہوں
حق نے تیرے قد کے تئیں مصرعہ عالی کیا

ہجر میں جاگیر عیش مجنوں ہوئی تھی تغیر
وصل کے دیوان نے پھر کے بحالی کیا

گلشن عشرت کا وہ کیوں نہ نظارہ کرے
تجھ چمن حسن کا دل کوں جو مالی کیا

بوسہ اسے دے جواب یو ہے جو اب صواب
تجھ انگے داؤدؔ نے لب کوں سوالی کیا