عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا
پارۂ لعل اشک ہے تس کا
یاد کر کر عمل میں لاتا ہوں
ہر سخن عشق کے مدرس کا
چشم ساقی کا وصف لکھتا ہوں
لے قلم ہات شاخ نرگس کا
غم نے پیلا کیا ہمارا رنگ
کیمیا گر نے زر کیا مس کا
زلف دکھلا کے دل لپیٹ لیا
اب پریشاں ہے حال مجلس کا
تم نے پائے ہو حسن کی دولت
پوچھتے کب ہو حال مفلس کا
بے کسی مجھ سیں آشنا ہے سراجؔ
نہیں تو عالم میں کون ہے کس کا
غزل
عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا
سراج اورنگ آبادی

