EN हिंदी
عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا | شیح شیری
ishq ne KHun kiya hai dil jis ka

غزل

عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا

سراج اورنگ آبادی

;

عشق نے خوں کیا ہے دل جس کا
پارۂ لعل اشک ہے تس کا

یاد کر کر عمل میں لاتا ہوں
ہر سخن عشق کے مدرس کا

چشم ساقی کا وصف لکھتا ہوں
لے قلم ہات شاخ نرگس کا

غم نے پیلا کیا ہمارا رنگ
کیمیا گر نے زر کیا مس کا

زلف دکھلا کے دل لپیٹ لیا
اب پریشاں ہے حال مجلس کا

تم نے پائے ہو حسن کی دولت
پوچھتے کب ہو حال مفلس کا

بے کسی مجھ سیں آشنا ہے سراجؔ
نہیں تو عالم میں کون ہے کس کا