عشق میں کتنے بلند امکان ہو جاتے ہیں ہم
اک بدن ہوتے ہوئے دو جان ہو جاتے ہیں ہم
اک نئی تہذیب لے کر آنے والا ہے جنوں
اس کے استقبال میں ویران ہو جاتے ہیں ہم
ساری گرہیں کھول دیتا ہے یہ آب خوش وصال
عشق کر کے کس قدر آسان ہو جاتے ہیں ہم
صاحب خانہ بنا آتا ہے جب آتا ہے عشق
اور اپنے گھر میں خود مہمان ہو جاتے ہیں ہم
اپنی آغوش رواں میں غسل کر لینے دے یار
غسل کر کے اک نئے انسان ہو جاتے ہیں ہم
ہم جو یہ سامان گھر لاتے ہیں خود کو بیچ کر
ایک دن گھر کا یہی سامان ہو جاتے ہیں ہم
اس کی آنکھوں کے اشارے کرتے رہتے ہیں رقم
دھیرے دھیرے صاحب دیوان ہو جاتے ہیں ہم
غزل
عشق میں کتنے بلند امکان ہو جاتے ہیں ہم
فرحت احساس

