EN हिंदी
عشق کیا ہے بے بسی ہے بے بسی کی بات کر | شیح شیری
ishq kya hai bebasi hai bebasi ki baat kar

غزل

عشق کیا ہے بے بسی ہے بے بسی کی بات کر

اورنگ زیب

;

عشق کیا ہے بے بسی ہے بے بسی کی بات کر
یہ بھی کوئی زندگی ہے زندگی کی بات کر

کرب سے ٹوٹا نہیں میں درد سے مرتا نہیں
مجھ پہ طاری بے حسی ہے بے حسی کی بات کر

وقت سے لڑتا ہوا تقدیر سے الجھا ہوا
میں نہیں ہوں سرکشی ہے سرکشی کی بات کر

تو خدا جس کو بنانے پر بضد ہے نا سمجھ
وہ فقط اک آدمی ہے آدمی کی بات کر

وقت کب کا مر چکا ہے آج بھی زندہ ہوں میں
تو نہیں تو کیا کمی ہے اس کمی کی بات کر

فاعلاتن فاعلن سے ہم بھی واقف ہیں مگر
یہ ہماری شاعری ہے شاعری کی بات کر