EN हिंदी
عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیز | شیح شیری
ishq ki koi agar sikh le gar mujhse tamiz

غزل

عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیز

قاسم علی خان آفریدی

;

عشق کی کوئی اگر سیکھ لے گر مجھ سے تمیز
دین دنیا میں ہوا اپنے پرایوں کو عزیز

یا ہو شاگرد مرا یا مجھے تلمیذ کرے
ورنہ اس کوچۂ عشاق سے کر جاوے گریز

مکتب عشق سے نا خواندہ اٹھا جو محروم
دونو عالم میں وہ کچھ چیز نہیں ہے ناچیز

مرد کیوں کر کہوں بے عشق جو ہووے کوئی
فرقہ عشاق میں اس کے تئیں کہتے ہیں کنیز

میں نے استاد ازل سے یہی سیکھا تھا سبق
آفریدیؔ نہ کبھی یار کی چھوڑوں دہلیز