عشق بھی کرنا ہے ہم کو اور زندہ بھی رہنا ہے
عشق میں مرنے والوں سے شرمندہ بھی رہنا ہے
تم کو ایک یہی دینا ہے سب کچھ ہے آسان
مشکل میری ہے مجھ کو آئندہ بھی رہنا ہے
رکھنی ہے بنیاد بھی اپنے الگ گھرانے کی
وقت کی سنگت میں اس کا زندہ بھی رہنا ہے
بہت مہذب ہونا بھی کب ہے خطرے سے خالی
اندر جنگل جنگل ایک درندہ بھی رہنا ہے
دل تو بجھتا جاتا ہے احساسؔ میاں جی کا
شب سے شرط لگی ہے تو تابندہ بھی رہنا ہے
غزل
عشق بھی کرنا ہے ہم کو اور زندہ بھی رہنا ہے
فرحت احساس

